وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر لازم ہے کہ وہ صوبے میں گورننس، ترقیاتی عمل اور سیکیورٹی کی بہتری پر بھرپور توجہ دیں،سابق وزیر اعلی امیر حیدر خان




کاٹلنگ(دی نیوز پوائنٹ اردو،ایم ایوب ایوب سے)خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ ہر حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی بالادستی کا قیام ہے۔ ان کے مطابق موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر لازم ہے کہ وہ صوبے میں گورننس، ترقیاتی عمل اور سیکیورٹی کی بہتری پر بھرپور توجہ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے دیگر صوبوں کے دورے ایک مثبت روایت ہیں، تاہم ایسے دوروں کا مقصد قومی ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے ہونا چاہیے، نہ کہ کشیدگی یا انتشار کو جنم دینا۔ کاٹلنگ قاسمی میں ورکرز کونشن کے بعد سابق ایم پی اے پی کے 54 گوہر علی شاہ باچا کے رہاٸش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ صوبہ گزشتہ چار دہائیوں سے دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے جس سے عوام اور علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی خراب صورتحال کے خاتمے کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت وہ ضروری فیصلے اور اقدامات نہیں کر پا رہی جن کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، تاہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مطلوبہ سنجیدہ حکمتِ عملی اختیار نہ کرنے کے باعث عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ حکومت اس معاملے میں غیر فعال ہے۔ ان کے بقول بنیادی فیصلے کرنے اور ذمہ داری اٹھانے سے گریز کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس سے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ ان میں بھرپور تعاون کرے تاکہ مشترکہ کاوشوں سے اس ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

امیر حیدر ہوتی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس اعتراف کو سراہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں کسی فرد یا ادارے کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ قومی فریضہ سمجھ کر دی گئیں، کیونکہ وطن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق امن کے لیے جدوجہد، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور حق کے ساتھ کھڑے رہنا ان کی سیاسی اور فکری وراثت کا حصہ ہے، جس سے وہ نہ پہلے پیچھے ہٹے ہیں اور نہ آئندہ ہٹیں گے



0/Post a Comment/Comments