مردان(دی نیوز پوائنٹ اردو،عبداللہ شاہ بغدادی)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ہیومن رائٹس) مردان اقبال حسین خٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات کے حصول کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے، جو نہ صرف شفافیت کو فروغ دیتا ہے بلکہ جمہوری نظام کو مستحکم بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے بغیر عوامی احتساب ممکن نہیں اور نہ ہی گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہال میں غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی اور ٹی ڈی ای اے کے اشتراک سے“محفوظ، آزاد اور مؤثر میڈیا”کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں سرکاری محکموں کے نمائندوں، سول سوسائٹی، مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، وکلا، طلبہ، اساتذہ اور سابق بلدیاتی مرد و خواتین نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اقبال حسین خٹک نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کریں تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ور میڈیا ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔سیمینار سے گورنمنٹ ڈگری کالج تخت بھائی کے پرنسپل پروفیسر محمد ابرار، ڈبلیو ایس ایس سی ایم کے راحت خان، ریسکیو 1122 کے عباس شاہ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما تاج غنی ایڈوکیٹ، نازیہ شاہ، آئی آر ایس پی کے پروگرام منیجر عزیز احمد، سول سوسائٹی کے محمد عارف، فیاض الاسلام و دیگر نے بھی خطاب کیا اور خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی اہمیت، افادیت اور عملی اطلاق پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عوام میں اس قانون سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہو سکیں۔اس موقع پر غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی کے پروگرام کوآرڈینیٹر و منیجر ایڈووکیسی محمد اسماعیل نے مردان کے تعلیمی اداروں میں خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے حوالے سے منعقدہ پینل ڈسکشنز پر تفصیلی بریفنگ دی۔اورمحمد اسماعیل او عزیز احمد نے ساڑھے تین ماہ کے پروجیکٹ کے نتائج اور شفارشات کی رپورٹ بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو معلومات تک رسائی کے حق سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی طبقہ مستقبل میں معاشرے کی قیادت کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی آر ایس پی مختلف تعلیمی اداروں میں سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی سیشنز کے ذریعے طلبہ و طالبات میں شعور بیدار کر رہی ہے۔محمد اسماعیل نے مزید کہا کہ ایک مضبوط اور فعال میڈیا شہریوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھتا ہے، جو جمہوری عمل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو درپیش چیلنجز، خصوصاً معلومات تک محدود رسائی، صحافیوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ آزادی جیسے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔پروگرام کے دوران مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کو رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے بارے میں خصوصی طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ وہ بھی اپنے حقوق کے حصول میں فعال کردار ادا کر سکیں۔آخر میں مہمان خصوصی اقبال حسین خٹک کو شیلڈ پیش کی گئی جبکہ سرکاری محکموں کے افسران اور شرکاء میں خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے حوالے سے آگاہی بینرز اور معلوماتی مواد بھی تقسیم کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کے انعقاد کو جاری رکھیں گے تاکہ معاشرے میں شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو فروغ دیا جا سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں