الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رہے گی، حبیب خان

 

 




مردان(دی نیوز  پوائنٹ  اردو،)پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ملکی نظامِ صحت کا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے بغیر جدید طبی سہولیات کی مؤثر فراہمی ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ، ریڈیالوجی ماہرین، فزیوتھراپسٹ، کارڈ یالوجی ٹیکنشن اور دیگر الائیڈ اسٹاف مریضوں کی بروقت تشخیص، درست علاج اور مکمل بحالی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حبیب خان، مرکزی نائب صدر یاسین خان چمکنی، مرکزی آرگنائزر احمد داؤد، نائب صدر سردار وسیم احمد حاصخلی، مرکزی جنرل سیکرٹری حاجی شفاء مینگل، آرگنائزر عزیر احمد خواجہ، مرکزی سرپرست اعلیٰ سید الطاف حسین شاہ، مرکزی چیئرمین قربان علی حاصخلی، مرکزی سینئر وائس چیئرمین نعمت شاہ آفریدی، وائس چیئرمین عبیداللہ، ایجوکیشن سیکرٹری مختیار حسین عمرانی، مرکزی آفس سیکرٹری حق نواز آفریدی اور پریس سیکرٹری نور اسلام نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشن نہ صرف اپنے ممبران کے حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم ہے بلکہ ملک بھر میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں کے فروغ، اور عالمی معیار کے مطابق سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے کیلئے مختلف پروگرامز اور ورکشاپس کا انعقاد کر رہی ہے۔رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عطائیت ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے باعث مستند اور تربیت یافتہ عملے کی اہمیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر تربیت یافتہ افراد کو نجی کلینکس اور اسپتالوں میں کم اجرت پر رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایک جامع پالیسی تشکیل دے جس کے تحت الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ریگولیشن کو سخت بنایا جائے۔ ساتھ ہی سرکاری اور نجی سطح پر روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ تربیت یافتہ افراد کو نظر انداز نہ کیا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشن مستقبل میں بھی عطائیت کے خاتمے، پیشہ ورانہ وقار کی بحالی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام قائم کریں گے جہاں صرف مستند اور رجسٹرڈ طبی عملہ ہی خدمات انجام دے سکے۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے علاج کیلئے ہمیشہ مستند اور رجسٹرڈ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز سے رجوع کریں اور کسی بھی مشکوک یا غیر قانونی طبی سرگرمی کی فوری اطلاع حکام کو دیں، تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

0/Post a Comment/Comments