جرمِ ہمدردی

جرمِ ہمدردی


ام لیلی نقوی





وہ عورت ان لوگوں میں سے تھی جن کے دن دوسروں کے دنوں سے کچھ زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔

صبح ادارے پہنچنے سے پہلے ہی اس کے ذہن میں دن بھر کے کاموں کی ایک طویل فہرست بن چکی ہوتی۔ بچوں کی کلاسز، ان کی تربیت، تعلیمی سرگرمیاں، انتظامی ذمہ داریاں، فائلیں، اجلاس اور نہ جانے کتنے ایسے کام جو اکثر اس کی مقررہ ذمہ داریوں سے بھی آگے نکل جاتے۔

وہ ایک تعلیمی ادارے میں کام کرتی تھی اور اپنے فرائض کو صرف ملازمت نہیں سمجھتی تھی۔

اس کے لیے بچوں کی تربیت ایک ذمہ داری تھی، پڑھانا ایک امانت اور ادارے کے ساتھ دیانت داری ایک اصول۔

اسی لیے وہ اکثر سب کے جانے کے بعد بھی اپنی میز پر بیٹھی رہتی۔

شاید یہی محنت کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگتی تھی۔

مگر اسے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی خوبی بھی دوسروں کے لیے اس کی سب سے بڑی شکایت بن جاتی ہے۔

اسی ادارے میں ایک یتیم بچہ بھی کام کرتا تھا۔

اس کی ماں زندہ تھی، مگر دوسرے شہر میں رہتی تھی اور اپنے بیٹے کے لیے محنت کرتی تھی۔ حالات نے دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر رکھا تھا۔

بچہ کم عمری میں ہی کام کرنے لگا تھا۔

دن بھر وہ کبھی پانی لاتا، کبھی سامان اٹھاتا، کبھی فائلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا اور کبھی کسی کے بلانے پر دوڑتا ہوا آ جاتا۔

وہ زیادہ سوال نہیں کرتا تھا۔

شاید حالات نے اسے جلدی خاموش ہونا سکھا دیا تھا۔

اس بچے کو دیکھ کر کبھی کبھی اسے چارلس ڈکنز کا ناول Oliver Twist یاد آ جاتا۔ وہی Oliver جس کی زندگی میں بچپن، بھوک، محرومی اور محنت ایک دوسرے میں گندھے ہوئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں سامنے ایک ناول کا کردار نہیں، ایک حقیقی بچہ تھا؛ ایک ایسا بچہ جو اپنے حصے کے بچپن سے بہت پہلے روزگار اور ذمہ داری کی دنیا میں داخل ہو چکا تھا۔

وہ سوچتی کہ بچوں سے محنت لینا صرف ان کے ہاتھوں کو تھکانا نہیں، کبھی کبھی ان کے خوابوں کو بھی وقت سے پہلے بوڑھا کر دینا ہوتا ہے۔

اس کے دل میں یہ سوال بھی اٹھتا کہ اگر کسی بچے کے حالات اسے کام کرنے پر مجبور کر دیں تو کیا معاشرے کی ذمہ داری صرف اسے کام کرتے دیکھنا ہے، یا اس کے ہاتھ میں کتاب، اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور اس کے مستقبل میں امید رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے؟

وہ عورت اسے اکثر دیکھتی۔

اسے معلوم تھا کہ ایک بچے کے چہرے پر تھکن صرف جسمانی نہیں ہوتی۔

اس لیے کبھی وہ پوچھ لیتی: "کھانا کھایا؟" کبھی کہتی: "اتنا کام مت کرو، کچھ دیر بیٹھ جاؤ۔" کبھی اس کی پڑھائی کا پوچھتی، کبھی ماں کا حال۔

ہفتے میں دو تین مرتبہ کیفیٹیریا میں کھانا بھی اکٹھا ہو جاتا۔

وہ اس کے ساتھ اسی طرح پیش آتی جیسے کسی انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔


نہ اس میں کوئی خاص بات تھی، نہ کوئی راز۔


صرف ہمدردی تھی۔ صرف انسانیت۔


ایک دن وہ عورت گھر سے کھانا بنا کر لائی۔


کھانا معمول سے کچھ زیادہ اچھا بنا تھا۔


اس نے بچے کو بلایا اور کہا: "آؤ، آج یہ میرے ساتھ کھا لو۔"


بچہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔


وہ بہت خوش تھا۔


شاید اس لیے کہ کسی نے اس کے لیے کھانا صرف ضرورت سمجھ کر نہیں، محبت سے بنایا تھا۔


وہ عورت اسے کھاتے دیکھتی رہی۔


اسے معلوم تھا کہ بعض اوقات انسان کو پیٹ سے زیادہ دل بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔


اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہی چھوٹا سا واقعہ کسی کی زبان پر ایک بڑی کہانی بن جائے گا۔


کچھ دن بعد وہ بچہ ایک چھوٹا سا پیکٹ ہاتھ میں لیے خوشی خوشی اس کے پاس آیا۔


آنکھوں میں چمک تھی۔


وہ تقریباً دوڑتا ہوا آیا اور بولا: "باجی! آپی! دیکھیں، کسی نے مجھے کپڑے دیے ہیں!"


اس نے پیکٹ کھولا۔


سادہ سے کپڑے تھے۔


مگر بچے کے لیے وہ کسی خزانے سے کم نہیں تھے۔


وہ انہیں بار بار دیکھ رہا تھا۔


پھر بولا: "میں یہ پہن کر جاؤں گا۔"


وہ عورت مسکرا دی۔


اس کے دل میں ایک عجیب سا اطمینان اترا۔


کسی نے ایک ضرورت مند بچے کو کپڑے دے دیے تھے اور اس بچے کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔


وہ سوچنے لگی:


ہم اکثر نعمتوں کو ان کی قیمت سے ناپتے ہیں، حالانکہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اس کے لیے ایک معمولی چیز بھی پوری دنیا بن سکتی ہے۔


پھر اس بچے کی پڑھائی کا ذکر آیا۔


وہ کام بھی کرتا تھا اور پڑھنے کی کوشش بھی۔


اسے پڑھائی میں مدد کی ضرورت ہوتی تو ادارے کے کچھ اساتذہ اس کی مدد کر دیتے۔


کبھی کوئی سبق سمجھا دیتا، کبھی کتاب دے دیتا، کبھی اسے حوصلہ دیتا۔


وہ عورت بھی اسے ہمیشہ یہی کہتی: "کام ضروری ہے، لیکن پڑھائی مت چھوڑنا۔"


بچے نے شاید اس ایک جملے کو دل میں رکھ لیا تھا۔


وہ کام کے بعد پڑھتا۔


تھکتا، پھر بھی پڑھتا۔


اور پھر ایک دن اس کا میٹرک کا نتیجہ آ گیا۔


وہ ایک پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے امتحان دے رہا تھا۔


اس کے پاس مٹھائی کے پیسے نہیں تھے۔


اس نے اپنے ایک دوست سے پیسے ادھار لیے اور ہنستے ہوئے کہا: "میری سیلری آئے گی تو میں تمہیں پیسے واپس کر دوں گا۔"


پھر وہ مٹھائی کا ڈبہ لیے تقریباً بھاگتا ہوا ادارے میں داخل ہوا۔


سب سے پہلے وہ اپنے اساتذہ کے پاس گیا۔


وہی اساتذہ جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا، جنہوں نے اس کی پڑھائی میں مدد کی تھی، جنہوں نے اسے صرف ایک کام کرنے والے بچے کے طور پر نہیں دیکھا تھا، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا تھا جس کا مستقبل بھی ہے۔


وہ مٹھائی کا ڈبہ آگے کرتے ہوئے بولا: "آپ لوگوں نے مشکل وقت میں میری مدد کی تھی۔ اگر آپ میرا ساتھ نہ دیتے تو شاید میں یہاں تک نہ پہنچتا۔"


اس کی آواز بھرّا گئی۔


آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔


وہ ایک ایک استاد کے پاس جا رہا تھا، مٹھائی دے رہا تھا، شکریہ ادا کر رہا تھا اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔


وہ عورت ایک طرف کھڑی اسے دیکھ رہی تھی اور اچانک اس کی اپنی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔


اسے اپنا گھر یاد آیا۔


اپنے والدین یاد آئے۔


اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔


والدین واقعی کتنی بڑی نعمت ہیں۔


اس نے سوچا، انسان کی کامیابی کبھی صرف اس کی اپنی نہیں ہوتی۔


اس کے پیچھے کسی ماں کی دعا ہوتی ہے، کسی باپ کی محنت ہوتی ہے۔

0/Post a Comment/Comments